نفاذ شریعت

شریعت سے کیا مُرادہے؟

پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شریعت سے کیا مراد ہے؟بعد میں یہ فرض کروں گا کہ اس نفاذ کا کیا مطلب ہےاور آخرمیں یہ بتاؤں گا کہ پاکستان میں اس نفاذ کے امکانات کیا ہیں اور کیا ضروری شرائط ہیں۔

شریعت سے مُراد

شریعت سے مراد محض قانون نہیں ہے جس کو عدالتوں کے ذریعےنافذ کیا جائےشریعت قانون کے ہم معنی نہیں،شریعت سے مراد زندگی کا پورا نظام حیات ہے جو عقائد ایمانیات سے شروع ہوتا ہے،اور عبادات و اخلاقیات پر آتا ہے۔

شریعت کے تقاضے

پختہ ایمان

رسول ﷺ جو شریعت ہی کو نافذ کرنے کیلئےمبعوث فرمائے گئے تھے آپﷺ نے تیرہ برس مکہ معظمہ میں اس کے بعد مدینہ منورہ میں اپنی ساری طاقت صرف فرمائی تھی کہ لوگوں کے ذہنوں اور رویوں میں ایمان کی طاقت بٹھادیں کیونکہ یہ شریعت اس وقت تک نافذ ہی نہیں ہوسکتی جب تک اس کے چلانے والوں میں ایمان موجود نہ ہو،اور جن پر وہ چلائی جائےان کے اندر بھی ایمان نہ ہو،اگر ایمان موجود نہ ہو تو ممکن نہیں ہے کہ شریعت کو نافذ کیا جا سکے۔اور ممکن نہیں ہے کہ جس آبادی پر اس کو نافذ   کیا جارہا ہےوہ اس کو برداشت کرےمثال کے طور پر میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ حدود شریعہ میں سے ایک حد شرعی یہ ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دو۔اس کے اوپر عمل وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے دلوں میں ایمان ہو۔وہ سچے دل سے سمجھتے ہوں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ سچے دل سے یہ سمجھتے ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں سچے دل سے یہ مانتے ہوں کہ رسولﷺ کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی اور کلام نازل ہوا ہے۔یہ اللہ کا حکم ہے جو رسولﷺ کی زبان سے جاری ہورہا ہے۔اور سچے دل سے یہ مانتے ہوں کہ اگر ہم نے اس کے نافذ کرنے میں ذرہ برابر بھی کوتاہی کی تو آخرت میں ہمیں اللہ کے روبروجوابدہ ہونا پڑے گا۔اگر یہ چیزیں موجود نہیں ہیں تو حدود شرعیہ کا اجراء نہیں ہوسکتا۔کوئی ایسا فرد جس کو قانون کی شکل میں حد شرعی ملےلیکن،وہ اس پر ایمان نہ رکھتا ہو تو وہ پہلی فرصت تلاش کرے گاجس میں اس قانون کو منسوخ کرےاور اپنے لئے نیا قانون بنائےاسی طرح جن لوگوں پر نافذ کیا جاتا ہے اگر ان کے اندر ایمان نہ ہو،وہ یہ نہ مانتے ہوں کہ قرآن برحق ہے اور اسلام کےقانون میں چور کی سزا ہاتھ کاٹنا ہی ہے،اگر وہ اس کے اوپر یقین نہ رکھتے ہوں تو ہو سکتا ہے کہ کسی غریب، چھوٹے اور بے اثر آدمی کے تو ہاتھ کاٹ دئیےجائیں لیکن اگر کسی با اثر آدمی کا ہاتھ کاٹنے کی نوبت آجائے تو بغاوت برپا ہوجائے۔وہ آبادی اس چیز کو برداشت ہی نہیں کرے گی کہ وہ قانون نافذ ہو۔اس لئے شریعت سب سے پہلے جس چیز کا تقاضا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کونافذ کرنیوالےاور جن لوگوں پر کیا جائےان کے اندر ایمان ہو،ان کے دلوں میں ایمان ہو۔

If you succeed in developing a good subject that catches the eye of readers, you will written article be able to produce a highly enjoyable essay.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *