قرآن کی تیار کردہ لاثانی جماعت

قرآن کی تیار کردہ لاثانی جماعت

دعوتِ اسلامی نے ایک زمانے میں ایک ایسی جماعت تیار کی تھی جس کی مثال پوری اسلامی تاریخ بلکہ پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس جماعت سے مراد محمدعربیؐ کے صحابہ کرام اجمعیں ہیں۔۔
اس نسل کی کے بعد تاریخی ادوار میں دعوتِ اسلامی کے ہاتھوں اس طرز اور کردار کی جمعیت پھر وجود میں نہین ائی۔ اگرچہ تاریخ کے ہر دَور میں اس کردار کے افراد تو بلاشبہ پائے گئے ہیں، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک ہی خطّے میں بڑی تعداد میں اس طرز اور کردار کے لوگ جمع ہوگئے ہوں۔جس طرح اسلام کے اوّلین دَور میں جمع ہوئے۔ یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کا ثبوت تاریخ کے صفحات سے ملتا ہے۔ اور اس کی تہ میں ایک خاص راز خاص راز پنہاں ہے۔ ہمیں اس بدیہی حقیقت کا بنظرِ غائر مطالعہ کرنا چاہیئے تاکہ اُس راز تک رسائی حاصل کرسکیں۔

صحابہ کرام کے بعد ایسی لاثانی جمعیت کیوں وجود میں نہ آئی؟

اس کی دعوت و ہدایت جس کتاب (قرآن) میں موجود ہے وہ ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ اس کتاب کو پیش کرنے والی ہستی۔۔۔۔۔۔۔ سول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔ کی تعلیمات و احادیث اور سیرت پاک آج بھی اُسی طرح ہماری نگاہوں کے سامنے ہے جس طرح وہ اُس پہلی اسلامی جمعیت کی نگاہوں کے سامنے تھی جس کا تاریخ کے اسٹیج پر دوبارہ اعادہ نہ ہوسکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ قرق صرف اتنا ہے کہ اُس وقت رسولِ خدا ﷺ بنفسِ نفیس اِس جمعیت اِس جمعیت کےقائد تھے، اور اب یہ صورتِ حال نہیں ہے۔ لیکن کیا یہی فرق اسلام کی مثالی تنطیم کے دوبارہ وجود میں نہ آنے کا سبب ہے؟ رسول اللہﷺ کا وجود مبارک اگر دعوتِ اسلامی کے قیام اور بارآور ہونے کے لئے حتمی اور ناگزیر ہوتا تو اللہ تعالٰی نے اسلام کو ہرگز عالمگیر دعوت اور پُوری انسانیت کا دین نہ قرار دیا ہوتا، اور نہ اسے انسانیت کے لیے آخری پیغام کی حیثیت دی ہوتی۔

 

One comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *