اسلام

اسلام کیا ہے؟

ہمارے عقیدے کے مطابق اسلام کسی ایسے دین کا نام نہیں ہے۔ جسے پہلی مرتبہ محمد ﷺ نے پیش کیا ہو اور اس بنا پر آپ کو بانی اسلام کہنا صحیح ہو۔

نوعِ انسانی کا دین واحد

قرآن اس امر کی پُوری صراحت کرتا ہےکہ خُدا کی طرف سے نوع انسانی کے لئے ہمیشہ اہک ہی دین بھیجا گیا ہے، اور وہ ہے اسلام،یعنی خدا کے آگے سرِ اطاعت جھکا دینا۔ دنیا کے مُختلف حِصّوں اور مختلف قوموں میں جو انبیا ؑ بھی خدا کے بھیجے ہوئے آئے تھے،وہ اپنے کسی الگ دین کے بانی نہیں تھے کی اُن میں سے کسی کے لائے ہوئے دین کو نُوحیّت، اور کسی کے دین کو ابراہیمیت یا موسویت یا عیسائیت کہا جا سکے۔بلکہ ہر آنے والا نبی اُسی ایک دین کو پیش کرتا رہا، جو اُس سے پہلے کے انبیاؑ پیش کرتے چلے آرہے تھے۔

 

اسلامی دعوت کے چند مرحلے

اللہ تعالٰی نے عرب کے شہرِ مکّہ میں اپنے ایک بندےکو پیغمبری (آخری نبیؑ) کی خدمت کے لئے منتخب کیااور اُسے حکم دیا کہ اپنے شہر اور اپنے قبیلہ (قریش) سے دعوت کی ابتداکرے۔ یہ کام شروع کرنے کے لئے آغاز میں جن ہدایات کی ضرورت تھی صرف وہی دی گئیں اور وہ زیادہ تر تین مضمونوں پر مشتمل تھی: ۔

ایک، پیغمبر کو اس امر کی تعلیم کہ وہ خود اپنے آپ کو اس عظیم الشان کام کے لئے کس طرح تیار کرریں۔ اور کِس طرز پر کام کریں۔

دوسرے، حقیقتِ نفس الامری کے متعلق ابتدائی معلومات اور حقیقت کے بارے میں اُن غلط فہمیوں کی مجمل تردیدجو گردوپیش کے لوگوں میں پائی جاتی تھیں، جن کی وجہ سے اُن کا رویہّ غلط ہو رہا تھا۔

تیسرے، صحیح رویّہ کی طرف دعوت اور ہدایتِ الہی کے اُن بنیادی اُصولِ اخلاق کا بیان جن کی پیروی میں انسان کے لئےفلاح و سعادت ہے۔

اسلامی دعوت کا ابتدائی مرحلہ (تقریبا 4 سے 5 سال)۔

شروع شروع کے یہ پیغامات ابتدائے دعوت کی مناسبت سے چند چھوٹے چھوٹے( قرآنی آیات) مختصر بولوں (یعنی قرآنی آیات) پر مشتمل ہوتے تھے جن کی زبان نہایت شستہ، نہایت شیریں، نہایت پُر اثر اور مخاطب قوم کے مذاق کے مطابق بہتریں ادبی رنگ لیے ہوئے ہوتی تھی تاکہ دلوں میں یہ بول (آیات)تیرونشتر کی طرح پیوست ہوجائیں، کان خود بخود ان کے ترنُّمکی وجہ سے ان کی طرف متوجّہ ہوں، اور زبانیں ان کے حُسنِ بناسب کی وجہ سے بے اختیار ہو کراُنہیں دُہرانے لگیں۔ پھر اُن میں مقامی رنگ بہت زیادہ تھا۔ اگرچہ بیان توکی جا رہی تھیں عالمگیر صداقتیں مگر ان کے لئے دلائلع شواہد اور مثالیں اُس قریب تریں ماحول سے لی گئی تھیں جس سے مخاطب لوگ اچھی طرح مانوس تھے۔ اُنہی کی تاریخ، انہی کی روایات، انہی کے روزمرّہ مشاہدہ میں آنے والے آثار اور انہی کی اعتقادی واخلاقی اور اجتماعی خرابیوں پر ساری گفتگوں تھی تاکہ وہ اس سے اثر لے سکیں۔

دعوت کا یہ ابتدائی مرحلہ تقریبا چار پانچ سال تک جاری رہا، اور اس مرحلے میں نبی ﷺ کی تبلیغ کا ردِّ عمل تین صورتوں میں ظاہر ہوا۔

 ۔ (1) چند صالح آدمی اس دعوت کو قبول کرے امت مسلمہ بننے کے لئے تیار ہوگئے۔

۔ ( 2) ایک کثیر تعداد جہالت یا خود غرضی یا آبائی طریقے کی محبت کے سبب سے مخالفت پر آمادہ ہوگئی۔

۔ (3) مکّے و قریش کی حُدُود سے نکل کر اس نئی دعوت کی آواز نسبتا زیادہ وسیع حلقے میں پہنچنے لگی۔

اسلامی دعوت کا دوسرا مرحلہ (تقریبا 8  سے 9 سال)۔

یہاں سے اسلامی دعوت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں اسلام کی اِس تحریک اور پُرانی جاہلیت کے درمیان ایک سخت جاں گُسل کشمکش برپا ہوئی جس کا سلسلہ آٹھ نو سال تک چلتا رہا۔ نہ صرف مکّے میں،  نہ صرف قبیلہ قریش میں،بلکہ عرب کے بیشتر حِصوں میں بھی جو لوگ پُرانی جاہلیّت کو برقرار رکھنا چاہتے تھے وہ اس تحریک کو بزور مٹادینے پر تُل گئے۔ اُنہوں نے اسے دبانے کے لے سارے حربے استعمال کر ڈالے۔ جھوٹا پروپیگنڈا کیا، الزامات اور شُبہات اور اعتراضات کی بُوچھاڑ کی، عوام الناس کے دلوں میں طرح طرح کی وسوسہ اندازیاں کیں، ناواقف لوگوں کو نبیﷺ کی بات سُننے سے روکنے کی کوششیں کیں، اسلام قبول کرنے والوں پر نہایت وحشیانہ ظلم وستم ڈھائے، ان کا معاشی اور معاشرتی مقاطعہ کیا، اور ان کو اتنا تنگ کیا کہ ان میں سے بہت سے لوگ دو دفعہ اپنے گھر چھوڑ کر حبش کر طرف ہجرت کرجانے پر مجبور ہوئےاور بالآخر تیسری مرتبہ ان سب کو مدینے کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔لیکن اس شدید اور روزافزوں مزاحمت کے باوجود یہ تحریک پھیلتی چلی گئی۔ مکّے میں کوئی خاندان اور کوئی گھر ایسا نہ رہا جس کے کسی فرد نے اسلام قبول نہ کرلیا ہو۔