اسلام میں رب کا تصور

اسلام میں رب کا تصور

کیا آپ نے رَبّ کو حقیقی معنوں میں تسلیم کیا ہے ؟

کیا آپ اُس رب کو مانتے ہیں جس کا تصور قرآن نے دیاہے ؟

رَبّ

رب کا بتدائی اور اساسی مفہوم پرورش ہے۔ پھر اسی سے تصرُّف، خبرگیری، اصلاح حال اور اتمامع تکمیل کا مفہوم پیدا ہوا۔ پر اسی بنیاد پر فوقیت، سیادت، مالکیت اور آقائی کے مفہومات اس میں پیدا ہوگئے۔ لغت میں اس کے استعمالات کی چند مثالیں یہ ہیں۔

نمبر1: پرورش کرنا، نشوونما، بڑھانا۔ مثلا ربیب اور ربیبہ پروردہ لڑکے او لڑکی کو کہتے ہیں۔ نیز اس بچے کو بھی ربیط کہتے ہیں جو سوتیلے باپ کے گھر پرورش پاے۔ پالنے والی دائے کو بھ ربیبہ کہتے ہیں ۔ رابہ سوتیلی مں کو کہتے ہیں، کیونکہ وہ ماں تو نہیں ہوتی مگر بچے کو پرورش کرتی ہے۔ سی مناسبت سے رابّ سوتیلے باپ کو کہتے ہیں۔ مربَّب یا مربّی اسی دوا کو کہتے ہیں جو محفوظ کرکے رکھی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *