اسلام اورتصور کائنات

اسلام اورتصور کائنات

انبیا کا نظریہ کائنات و انسان

یہ سارا عالم ہست وبود جو انسان کے گرد و پیش پھیلا ہوا ہے اور جس کا ایک جز انسان بھی ہے۔ کوئی اتفاقی ہنگامہ نہیں ہے بلکہ ایک منظم، باضابطہ سلطنت ہے۔ اللہ نے اس کو بنایاہے، وہی اس کا مالکہ ہے اور وہی اس کا اکیلا حاکم ہے۔یہ ایک کلی نظام ہے۔ جس میں تما اختیارات مرکزی اقتدار کے ہاتھ میں ہیں۔ اس مقتدرِ اعلٰی کے سوا یہاں کسی کا حکم نہیں چلتا۔ تمام قوتیں جو نظام عالم میں کام کر رہی ہیں، اسی کے زیر حکم ہیں اور کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے حکم سے سرتابی کرسکے، یا اس کے اذن کے بغیر اپنے اختیار سے کوئی حرکت کرے۔ اس ہمہ گیر سسٹم کے اندر کسی کی خود مختاری اور غیر ذمہ داری کے لیے کوئی جگہ نہیں، نہ فطرتا ہوسکتی ہے۔

انسان یہآں پیدائشی رعیت ہے۔ رعیت ہونا اس کی مرضی پر موقف نہیں ہے۔ بلکہ یہ رعیت ہی  پیدا ہوا ہے،  اور رعیت کے سوا کچھ اور ہونا اس کے امکان میں نہیں ہے۔ لٰہذا یہ خود اپنے لیے طریقِ زندگی وضع کرنے اور اپنی ڈیوٹی آپ تجویز کر لینے کا حق نہیں رکھتا۔

یہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے کہ اپنی ملک میں تصرف کرنے کا ضاطہ خود بنائے۔ اس کا جسم اور اس کی ساری قوتیں اللہ کی ملک اور اس کا عطیہ ہیں لٰہذا یہ ان کو خود اپنے منشا کے مطابق استعمال کرنے کا حق دار نہیں ہے بلکہ جس نے چیزیں اس کو عطا کی ہیں اسی کی مرضی کے مطابق اسے ان کو استعمال کرنا چاہیے۔

اسی طرح جو اشیا اس کے گردو پیش دنیا میں پائی جاتی ہیں۔ زمین، جانور، پانی، نباتات، معدنیات وغیرہ۔ یہ سب اللہ کی ملک ہیں۔ انسان ان کا مالک نہیں ہے، لٰہذا انسان کو ان پر بھی اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنے کا کوئی حق نہیں بلکہ اسے ان کے ساتھ اس قانون کے مطابق برتاؤ کرنا چاہیے جو اصل مالک نے مقرر کیا ہے۔

اسی طرح وہ تمام انسان بھی جو زمین پر بستے ہیں، اور جن کی زندگی ایک دوسرے سے وابستہ، اللہ کی رعیت ہیں۔ لٰہذا ان کو اپنے باہمی تعلقات کے بارے میں خود اصول اور ضابطے مقرر کر لینے کا حق نہیں ہے۔ ان کے جملہ تعلقات خدا کے بنائے ہوئے قانون پر مبنی ہونے چاہییں۔

رہی یہ بات کہ وہ خدا کا قانون کیا ہے ؟

تو پیغبر کہتے ہیں کہ جس ذریعہ علم کی بنا پر ہم تمہیں دنیا کی اور خود تمہاری یہ حقیقت بتارہے ہیں،اسی ذریعہ علم سے ہم کو خدا کا قانون بھی معلوم ہوا ہے۔ خدا نے خود ہم کو اس بات پر مامور کیا ہے کہ یہ علم تم تک پہنچادیں۔ لٰہذا تم ہم پر اعتماد کرو۔ ہمیں اپنے بادشاہ کا نمائندہ تسلیم کرو اور ہم سے اس کا مستند قانون لو۔

پھر پیغمبر ہم سے کہتے ہیں

کہ یہ جس تم بظاہر دیکھتے ہو کہ سلطنت عالم کا سرا کاروبار ایک نظم کے ساتھ چل رہا ہے مگر نہ خود سلطان نظر آتاہے نہ اس کے کارپرداذکام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور یہ جو تم ایک طرح کی خود مختاری اپنے اند محسوس کرتے ہو کہ جس طرح چاہو، کام کرو، مالکانہ روش بھی اختیار کرسکتے ہو اور اصل مالک کے سوا دوسروں کے سامنے بھی اطاعت و بندگی میں سرجھکاسکتے ہو ، ہر صورت میں تم کو رزق ملتا ہے۔ وسائل کار بہم پہنچتے ہیں اور بغاوت کی سزا فورا نہیں دی جاتی، یہ سب دراصل تمہاری آزمائش کے لیے ہے۔ چونکہ تم کو عقل، قوتِ استنباط اور قوتِ انتخاب دی گئی ہے، اس لیے مالک نے اپنے آپ کو اور اپنے نظام سلطنت کو تمہای نظروں اوجھل کردیاہے۔ وہ تمہیں آزمانا چاہتاہے کہ تم اپنی قوتوں سے کس طرح کام لیتے ہو۔ اس نے تم کو سمجھ بوجھ ، انتخاب کی آزادی اور ایک طرح کی خود اختیاری عطا کرکے چھوڑا ہے۔ اب اکر تم اپنی اعیت ہونے کی حیثیت کو سمجھو اور برضا و رغبت اس حیثیت کو اختیار کرلو، بغیر اس کے کہ تم پر اس حیثیت میں رہنے کے لئے کوئی جبر ہو، تو اپنے مالک کی آزمائش میں کامیاب ہوگے۔ سی امتحان کی غرض سے تم کو دنیا میں کچھ اختیارات دیے گئے ہیں، دنیا کی بہت سی چیزیں تمہارے قبضہ قدرت میں دی گئے ہیں اور تم کو عمر بھر کی مہلت دی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *